بھٹکل :20/اکتوبر(ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ کی پہاڑوں اور جنگلات سے گھری ہوئی کونار گرام پنچایت علاقہ کے عوام کی دکھ بھری کہانی کبھی کبھی منظر عام پر آتی ہے، کونار دیہات چونکہ تعلقہ کے بالکل آخری سرحد کے کونے میں ہے، منظر عام پر یہاں کے واقعات منظر عام پر نہ آنے کی یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے یا پھر انتظامیہ کی بے توجہی بھی اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے، فی الحال یہاں سرکاری طورپر عوامی سہولیات کے لئے مہیا کئے گئے راشن کے انتظامات پوری طرح مسدو د ہونے اور چاول، شکر کے لئے چکرکاٹ کر سست ہونے والے عوام کی لاچاری نے ابتر حالات کو پیش کیا ہے۔
دیہات کا جغرافیائی احاطہ 1992.78ہیکٹر ہونے کے باوجود زیادہ تر علاقہ پہاڑوں اور جنگلات سے گھرا ہواہے، یہاں کی آبادی 2987کو پہنچ گئی ہے، ایک اندازے کے مطابق 1495مرد اور 1492خواتین مساوی طورپر ہیں۔ ان میں 15 فی صد پسماندہ طبقات ،1257 پچھڑے طبقات سے منسلک ہیں، حساب کتاب لگائیں تو 548خاندان جنگلات کے درمیان رہائش پذیر ہیں۔ کیکوڑ، ہیجیلو، موگلی ، بیسے ، بیلورو تمام اسی گاؤں کا حصہ ہیں، لیکن انہیں اپنی پنچایت دفترپہنچنے کےلئے 10-12کلومیٹر فاصلہ طئے کرنا پڑتاہے۔ دوری کے بہانے سے راشن کے سامان کے بغیر رہ نہیں سکتے ، لوگ آج بھی راشن دوکان کی تلاش میں آتے رہتے ہیں، لیکن گذشتہ کچھ مہینوں سے بند پڑی راشن کی دوکان کے درشن کے لئے عوام ترس گئےہیں، عوام آنکھیں بچھائے کھڑے ہیں کہ راشن دوکان کا دروازہ کب کھلے گا۔ عوام نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ راشن دوکان سے عوام کو مناسب راشن سامان بھی نہیں ملتاہے۔ مزدوری چھوڑ کر راشن دوکان کا چکر کاٹنے پر بھی جب راشن نہیں مل رہاہے تو عوام مایوس ہو کر راشن دوکان کو بھول جانا بہتر سمجھ رہے ہیں۔
دوکان چلانے میں پس وپیش : دیہات کے راشن دوکان بند ہونے کی وجوہات کو تلاش کرتے چلیں تو اعلیٰ افسران کی بے توجہی ہی اہم ہونے کا پتہ دیتی ہے ۔ علاقہ کی راشن دوکان کے نگراں کار یوتھ سنگھ کا پروانہ(لائسنس) تجدید نہ ہونے کی وجہ بتاکر 2011 میں ہی افسران نے منظوری واپس لی ہے۔ اسی طرح یوتھ سنگھ کی انتظامیہ صحیح نہیں ہونے کے الزامات بھی گردش میں ہیں۔ خیر! جب افسران نے یوتھ سنگھ سے راشن دوکان واپس لی تو ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرسکے کہ کس کو یہ نگرانی سونپیں۔ ایک سال تک ماروکیری سوسائٹی نے اس ذمہ داری کو اداکرنے کے بعد کہا کہ آگے اس کو نبھانا ممکن نہیں ہے۔ اس کے بعد مارکیٹنگ سوسائٹی کو یہ ذمہ داری سونپ کر افسران خاموش ہوگئے۔ 7جون 2012کو عارضی سطح پر راشن کی نگرانی کرنے والی سوسائٹی عملہ کی قلت کا بہانہ بناکر پیچھے ہٹنے کی کوشش میں ہیں۔اور 6-7عرضیاں محکمہ خورد ونوشت پہنچ چکی ہیں، لیکن محکمہ کے افسران پیچیدگی کا شکارہیں کہ ذمہ داری کس کو دیں۔ اس سلسلے میں کونار پنچایت کو خط کے ذریعے کہا گیا ہے کہ وہ اس تعلق سے کوئی فیصلہ لیں، جب کہ پنچایت وقت گزاری میں دن دھکیل رہی ہے۔اس سے پہلے راشن کی نگرانی کرنےو الے یوتھ سنگھ کے متعلق پنچایت کے چند ممبران کا اعتراض ہونا اہم وجہ بتائی جارہی ہے۔ ان تمام حالات کا نتیجہ یہ نکلا کہ پچھلے 2سالوں سے علاقہ کے عوام راشن سامان کے لئے ترس گئے ہیں۔ عوام نے اس سلسلے میں ڈی سی کو مداخلت کرتے ہوئے ضروری اقدام کرنے کی مانگ کی ہے۔
راشن دوکا ن کے متعلق ایک مقامی مکین شنکر سکرپا نائک نے بتایا کہ گذشتہ 2سالوں سے راشن کا انتظام پوری طرح ٹھپ ہوگیا ہے ۔ دس بارہ کلومیٹر طئے کرنے کے بعد راشن کا سامان نہیں ملتا، راشن دوکان کادروازہ کب کھلے گا معلوم نہیں ، کئی مرتبہ افسران کو اس کے متعلق توجہ دلائی گئی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
جب کہ محکمہ غذا کے افسر پروین اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ مسئلہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے ، کونار کا کوئی بھی اہل ادارہ یا سوسائٹی راشن دوکان کی ذمہ داری لینے آگے آتا ہے تو انہیں ترجیح دی جائے گی، وہاں کی پنچایت اس سلسلے میں کوئی فیصلہ لے۔